سنن نسائی حدیث ۱۸۸۰ - نجاشی کے لیے استغفار
نجاشی کی وفات کی خبر اور مغفرت کی دعا
سنن نسائی : ۱۸۸۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۸۰
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ , وَابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَى لَهُمَا النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، اور فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ فوت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو۔ اس روایت میں دو باتیں خاص طور پر سامنے آتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ وفات کی خبر دینا اگر درست مقصد کے لیے ہو، جیسے دعا اور استغفار کی طرف متوجہ کرنا، تو اس کا انداز الگ ہے۔ دوسری بات یہ کہ مسلمان اپنے فوت شدہ بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔ یہاں نوحہ، چیخ و پکار یا جاہلی انداز کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ ایک باوقار اطلاع اور دعا کی دعوت ہے۔ یہ حدیث وفات کے بعد استغفار اور دینی بھائی چارے کے موضوع پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وفات کی خبر دعا کی نیت سے دی جا سکتی ہے۔
- فوت شدہ مسلمان کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔
- دینی بھائی چارہ موت کے بعد دعا کی صورت میں بھی باقی رہتا ہے۔
- موت کی خبر کا انداز باوقار اور سنجیدہ ہونا چاہیے۔
