سنن نسائی حدیث ۱۸۸۱ - تعزیت اور جنازے کے آداب

تعزیت کے لیے جانا اور جنازے کے ساتھ آگے جانے کی تنبیہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۸۱

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ . ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَعِيدٌ , حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا تَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا ، فَلَمَّا تَوَسَّطَ الطَّرِيقَ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ ؟ " , قَالَتْ : أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْمَيِّتِ فَتَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ وَعَزَّيْتُهُمْ بِمَيِّتِهِمْ , قَالَ : " لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى " , قَالَتْ : مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ ، فَقَالَ لَهَا : " لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : رَبِيعَةُ ضَعِيفٌ .

عبداللہ بن عمرو روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک آپ کی نگاہ ایک عورت پہ پڑی، ہم یہی گمان کر رہے تھے کہ آپ نے اسے نہیں پہچانا ہے، تو جب بیچ راستے میں پہنچے تو آپ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ وہ (عورت) آپ کے پاس آ گئی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: ”فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی ہو؟“انہوں نے جواب دیا: میں اس میت کے گھر والوں کے پاس آئی، میں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی، اور ان کی میت کی وجہ سے ان کی تعزیت کی، آپ نے فرمایا: ”شاید تم ان کے ساتھ کدیٰ ۱؎ تک گئی تھیں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں وہاں تک کیوں جاتی اس سلسلے میں آپ کو ان باتوں کا ذکر کرتے سن چکی ہوں جن کا آپ ذکر کرتے ہیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اگر تم ان کے ساتھ وہاں جاتی تو تم جنت نہ دیکھ پاتی یہاں تک کہ تمہارے باپ کے دادا (عبدالمطلب) اسے دیکھ لیں“ ۲؎۔نسائی کہتے ہیں: ربیعہ ضعیف ہیں۔

سنن نسائی حدیث ۱۸۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں بیان ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں تھے کہ آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی۔ جب وہ قریب آئیں تو معلوم ہوا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ نے پوچھا کہ گھر سے کیوں نکلی ہو؟ انہوں نے بتایا کہ میں اس میت کے گھر والوں کے پاس آئی، ان کے لیے رحمت کی دعا کی اور ان کی تعزیت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ شاید تم ان کے ساتھ کدیٰ تک گئی تھیں؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کی پناہ، میں نے آپ سے اس بارے میں باتیں سنی ہیں۔ پھر روایت میں آگے جانے کے بارے میں سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے۔ آخر میں نسائی کا نوٹ بھی ہے کہ ربیعہ ضعیف ہیں۔ اس لیے اس حدیث کا ذکر احتیاط کے ساتھ کیا جائے اور اصل الفاظ کے اندر رہ کر سمجھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • میت کے گھر والوں کی تعزیت کرنا نرمی اور خیرخواہی کا کام ہے۔
  • تعزیت میں رحمت کی دعا کرنا روایت کے الفاظ سے ثابت ہے۔
  • جنازے کے ساتھ بعض مقامات تک جانے کے بارے میں روایت میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
  • حدیث کے آخر میں راوی کے ضعف کا نوٹ موجود ہے، اس لیے بیان میں احتیاط ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں