سنن نسائی حدیث ۱۹۰۹ - نیک اور برے آدمی کا جنازہ

جنازہ بولتا ہے: نیک اور برے انجام کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۰۹

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ : قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي ، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ يَعْنِي السُّوءَ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ : يَا وَيْلِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي ؟ ! " .

ابوہریرہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب نیک بندہ اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے، تو وہ کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو، اور جب برا آدمی اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے، تو کہتا ہے: ہائے میری تباہی! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو“۔

سنن نسائی حدیث ۱۹۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نیک بندے اور برے آدمی کی حالت کو جنازے کی چارپائی کے موقع پر بیان فرمایا۔ نیک بندہ جب اپنی چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو۔ اور برا آدمی کہتا ہے: ہائے میری تباہی! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ یہ حدیث آخرت کی تیاری کا احساس دلاتی ہے، مگر اس میں تفصیل صرف اتنی ہی ہے جو الفاظ میں آئی ہے۔ “جنازہ کی آواز” یا “میت کا کلام” جیسے الفاظ اس حدیث کی تلاش میں آتے ہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ انسان کے اعمال کا انجام اس کے سامنے آتا ہے، اس لیے زندگی کو غفلت میں نہیں گزارنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیک بندے کے لیے آگے کا سفر خیر کی طرف بتایا گیا ہے۔
  • برا آدمی اپنے انجام پر گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے۔
  • حدیث آخرت کی تیاری کا احساس پیدا کرتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں