حدیث ۱۹۱۰
سنن نسائی : ۱۹۱۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۱۰
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً , قَالَتْ : قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ , قَالَتْ : يَا وَيْلَهَا إِلَى أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا ؟ ! يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ " .
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازہ (چارپائی پر) رکھا جاتا ہے (اور) لوگ اسے اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نیکوکار ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو، اور اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو، اس کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے، اگر انسان اسے سن لے تو بیہوش ہو جائے“۔
