سنن نسائی حدیث ۱۹۱۸ - جنازے کے پیچھے چلنے والا نہ بیٹھے
جنازے کے ساتھ جانے والے کے آداب
سنن نسائی : ۱۹۱۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۱۸
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ . ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، (اور) جو اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے وہ نہ بیٹھے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۹۱۸ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے وہی اہم ہدایت نقل ہے جو جنازے کے ادب سے متعلق ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے۔ اس حدیث میں دو حالتیں جمع ہیں: جنازہ دیکھنے والے کے لیے کھڑا ہونا، اور جنازے کے ساتھ جانے والے کے لیے نہ بیٹھنا۔ یہی اس کا اصل پیغام ہے۔ اس میں جنازہ، قیام، ساتھ چلنا اور رکھے جانے تک انتظار جیسے الفاظ مرکزی ہیں۔ وضاحت کرتے ہوئے حدیث کے الفاظ کو بنیاد بنانا چاہیے، نہ کہ اپنی طرف سے لمبی بحث شامل کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنازہ دیکھنے پر کھڑے ہونے کی ہدایت آئی ہے۔
- جنازے کے پیچھے چلنے والا رکھے جانے تک نہ بیٹھے۔
- جنازے کے ساتھ چلنے میں ادب اور انتظار دونوں شامل ہیں۔
