سنن نسائی حدیث ۱۹۱۹ - نبی صلى الله عليه وسلم جنازہ رکھے جانے تک نہ بیٹھتے
نبی صلى الله عليه وسلم کا جنازے کے ساتھ نہ بیٹھنا
سنن نسائی : ۱۹۱۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۱۹
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : " مَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِدَ جَنَازَةً قَطُّ فَجَلَسَ حَتَّى تُوضَعَ " .
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ جنازے کے ساتھ ہوں، (اور) بیٹھ گئے ہوں یہاں تک کہ وہ رکھ دیا جائے۔
سنن نسائی حدیث ۱۹۱۹ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ جنازے کے ساتھ ہوں اور بیٹھ گئے ہوں، یہاں تک کہ جنازہ رکھ دیا جائے۔ یہ حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو بیان کرتی ہے، یعنی جنازے کے ساتھ رہتے ہوئے آپ صلى الله عليه وسلم جنازہ رکھے جانے سے پہلے نہیں بیٹھتے تھے۔ اس میں الفاظ بہت واضح ہیں، اس لیے اس سے اصل سبق جنازے کے ساتھ ادب اور انتظار ہے۔ یہ روایت ان احادیث سے ملتی ہے جن میں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے اور ساتھ جانے والے کے نہ بیٹھنے کا ذکر ہے۔ یہاں خاص زور عمل نبوی پر ہے، اس لیے اسے “نبی صلى الله عليه وسلم کا جنازے کے آداب” کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم جنازے کے ساتھ ہوتے تو رکھے جانے تک نہ بیٹھتے۔
- صحابہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کے عمل کو دقت سے یاد رکھا۔
- جنازے کے ساتھ ادب اور سنجیدگی اختیار کرنا چاہیے۔
