سنن نسائی حدیث ۱۹۸۴ - نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں
نماز جنازہ میں پانچ تکبیروں کی روایت
سنن نسائی : ۱۹۸۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۸۴
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ " صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا خَمْسًا ، وَقَالَ : كَبَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابن ابی لیلیٰ روایت:
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو (اس میں) پانچ تکبیریں کہیں، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں۔
سنن نسائی حدیث ۱۹۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں پانچ تکبیریں کہیں۔ پھر انہوں نے صاف کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہی تھیں۔ اس روایت کا موضوع نماز جنازہ کی تکبیرات ہے۔ اسی بیچ کی بعض روایات میں چار تکبیریں بھی آئی ہیں، لیکن اس خاص روایت میں پانچ تکبیروں کا ذکر ہے، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔ یہ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب کوئی عمل کرتے تھے تو اس کی نسبت نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے کی طرف بیان کرتے تھے۔ “نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں” اسی روایت کا اہم سرچ کی ورڈ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں نماز جنازہ کی پانچ تکبیریں بیان ہوئی ہیں۔
- زید بن ارقمؓ نے اپنے عمل کی نسبت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کی طرف کی۔
- نماز جنازہ کے مسائل میں روایت کے الفاظ کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔
- دینی عمل میں دلیل بیان کرنا صحابہ کے طریقے میں شامل تھا۔
