سنن نسائی حدیث ۱۹۸۳ - قبر پر نماز جنازہ اور چار تکبیریں
قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۹۸۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۸۳
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قال : مَرِضَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ شَيْءٍ عِيَادَةً لِلْمَرِيضِ , فَقَالَ : " إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي " فَمَاتَتْ لَيْلًا , فَدَفَنُوهَا وَلَمْ يُعْلِمُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا , فَقَالُوا : كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَى قَبْرَهَا " فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا " .
ابوامامہ بن سہل روایت:
عوالی والوں ۱؎ میں سے ایک عورت بیمار ہوئی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی سب سے زیادہ کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا“ تو وہ رات میں مر گئی، اور لوگوں نے اسے دفنا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہیں کیا، جب آپ نے صبح کی تو اس کے بارے میں پوچھا، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، آپ اس کی قبر پر آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور (اس میں) چار تکبیریں کہیں۔
سنن نسائی حدیث ۱۹۸۳ کا خلاصہ
اس روایت میں ایک عورت کا ذکر ہے جو عوالی والوں میں سے تھی۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم اس کی بیماری میں عیادت کا خاص خیال رکھتے تھے اور فرمایا تھا کہ جب وہ فوت ہو جائے تو مجھے خبر کرنا۔ وہ رات کو فوت ہو گئی، لوگوں نے اسے دفنا دیا اور آپ صلى الله عليه وسلم کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ صبح آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا، پھر اس کی قبر پر تشریف لے گئے، نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں۔ اس حدیث میں نماز جنازہ، قبر پر جنازہ اور میت کے لیے دعا کا واضح بیان ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم بیمار کی خبر رکھتے تھے اور فوت ہونے کے بعد بھی اس کے لیے دعا کا اہتمام فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم بیمار کی عیادت کا بہت خیال رکھتے تھے۔
- اس روایت میں قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا واقعہ آیا ہے۔
- نماز جنازہ میں یہاں بھی چار تکبیریں ذکر ہوئی ہیں۔
- میت کے لیے دعا کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
