سنن نسائی حدیث ۲۰۰۲ - جنازہ میں نبوی اتباع
جنازہ میں نبی صلى الله عليه وسلم کی اتباع کا ادب
سنن نسائی : ۲۰۰۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۰۲
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قال : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَرَأَيْنَاهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا " .
علی روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا آپ کھڑے ہوئے تو ہم (بھی) کھڑے ہوئے، اور بیٹھتے دیکھا تو ہم (بھی) بیٹھنے لگے۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک بہت سادہ مگر اہم بات بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو کھڑا دیکھا تو صحابہ بھی کھڑے ہوئے، اور جب آپ بیٹھے تو وہ بھی بیٹھ گئے۔ اس سے جنازہ کے موقع پر نبوی اتباع کا ادب سامنے آتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو غور سے دیکھتے تھے اور پھر اسی کے مطابق چلتے تھے۔ جنازہ کی حدیث تلاش کرنے والے عموماً نماز جنازہ، جنازہ کے آداب، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی جیسے موضوعات جاننا چاہتے ہیں۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ دین میں رہنمائی صرف الفاظ سے نہیں، عمل سے بھی لی جاتی ہے، خاص طور پر جب معاملہ میت اور جنازہ کے احترام کا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی صحابہ کے دینی مزاج کا حصہ تھی۔
- جنازہ کے موقع پر وقار اور ادب کا خیال رکھا جانا چاہیے۔
- دینی عمل میں جلد بازی کے بجائے سنت کو دیکھ کر چلنا بہتر ہے۔
