سنن نسائی حدیث ۲۰۰۳ - قبر کے پاس خاموشی کا ادب
قبر کے پاس خاموشی اور سنجیدگی کا ادب
سنن نسائی : ۲۰۰۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۰۳
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قال : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ " .
براء بن عازب روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو وہ تیار نہیں ہوئی تھی، چنانچہ آپ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، گویا ہمارے سر پر پرندے بیٹھے ہوئے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۰۳ کا خلاصہ
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صحابہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں گئے۔ جب قبر کے پاس پہنچے تو قبر ابھی تیار نہیں تھی۔ نبی صلى الله عليه وسلم بیٹھ گئے اور صحابہ بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے۔ روایت میں یہ بات آئی کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، یعنی سب نہایت خاموش، سنجیدہ اور باادب تھے۔ یہ حدیث جنازہ کے آداب اور قبر کے پاس خاموشی کے بارے میں بہت مؤثر رہنمائی دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تدفین کا وقت ہنسی مذاق یا بے توجہی کا وقت نہیں ہوتا۔ میت، قبر اور آخرت کی یاد انسان کو سنجیدہ بناتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبر کے پاس بیٹھتے وقت خاموشی اور ادب مناسب ہے۔
- جنازہ میں شریک لوگوں کو سنجیدگی کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے بیٹھنے پر صحابہ نے بھی اسی انداز کو اختیار کیا۔
