سنن نسائی حدیث ۲۰۰۴ - شہداء احد کا کفن
شہداء احد اور خون آلود کفن کی حدیث
سنن نسائی : ۲۰۰۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۰۴
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَتْلَى أُحُدٍ : " زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ إِلَّا يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ " .
عبداللہ بن ثعلبہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: ”انہیں ان کے خون کے ساتھ کپڑوں میں لپیٹ دو کیونکہ جو بھی زخم اللہ کی راہ میں لگا ہو گا وہ قیامت کے روز بہتا ہوا آئے گا، اس کا رنگ خون کا رنگ ہو گا، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہو گی“۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا کہ انہیں ان کے خون کے ساتھ کپڑوں میں لپیٹ دو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ اللہ کی راہ میں لگنے والا زخم قیامت کے دن بہتا ہوا آئے گا، اس کا رنگ خون جیسا ہوگا اور خوشبو مشک جیسی ہوگی۔ یہ شہادت کی حدیث شہید کے مقام کو بیان کرتی ہے، مگر صرف اسی حد تک جو روایت میں آیا ہے۔ اس میں غزوہ احد کے شہداء کے کفن کا خاص معاملہ ذکر ہوا ہے۔ عام لوگ جب شہید کا کفن، شہید کی فضیلت، یا شہدائے احد کی حدیث تلاش کرتے ہیں تو اس روایت سے انہیں اصل بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ کی راہ میں لگنے والا زخم ضائع نہیں جاتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں لگنے والا زخم قیامت کے دن خاص نشان کے ساتھ آئے گا۔
- شہداء احد کے بارے میں نبی صلى الله عليه وسلم نے خون سمیت لپیٹنے کا حکم دیا۔
- شہادت کے معاملے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت ہی اصل رہنمائی ہے۔
