سنن نسائی حدیث ۲۰۱۵ - تدفین کے ممنوع اوقات

نماز اور تدفین کے تین ممنوع اوقات

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۱۵

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبِي ، قال : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، قال : " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا ، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ " .

عقبہ بن عامر جہنی روایت:

تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے (اور) اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے، اور دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو رہا ہو۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۱۵ کا خلاصہ

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین اوقات ایسے تھے جن میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہمیں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفنانے سے منع فرماتے تھے۔ پہلا وقت سورج نکلتے وقت ہے، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ دوسرا وقت عین دوپہر کا ہے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے۔ تیسرا وقت سورج کے غروب کے قریب ہونے کا ہے۔ یہ حدیث ممنوع اوقات نماز اور تدفین کے بارے میں واضح الفاظ رکھتی ہے۔ جو لوگ تدفین کے اوقات، نماز کے مکروہ اوقات، یا جنازہ کب دفن نہ کیا جائے تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت براہ راست جواب دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تین خاص اوقات میں نماز اور تدفین سے منع کیا گیا۔
  • سورج نکلنے، عین دوپہر، اور غروب کے قریب وقت کا ذکر آیا ہے۔
  • تدفین کے وقت کا انتخاب کرتے ہوئے نبوی ہدایت کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں