سنن نسائی حدیث ۲۰۰۹ - بغلی قبر کا طریقہ
بغلی قبر اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا طریقہ
سنن نسائی : ۲۰۰۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۰۹
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قال : " أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سعد بن ابی وقاص روایت:
میرے لیے بغلی قبر کھودنا، اور (اینٹیں) کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کی گئی تھی۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۰۹ کا خلاصہ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے لیے بغلی قبر کھودنا اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے کیا گیا تھا۔ اس حدیث میں قبر کے طریقے کا ذکر ہے، خاص طور پر لحد یعنی بغلی قبر کا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی تدفین کے لیے وہی انداز پسند کیا جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے اختیار کیا گیا تھا۔ اس روایت میں قبر کی بناوٹ، لحد، اور تدفین کے نبوی طریقے کا موضوع آتا ہے۔ جو لوگ بغلی قبر کی حدیث، لحد کیا ہے، یا قبر بنانے کا سنت طریقہ تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت متعلق ہے۔ یہاں بات صرف اسی وصیت تک محدود ہے کہ قبر اور اینٹوں کا طریقہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے طریقے جیسا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے طریقے کو اپنی تدفین میں پسند کیا۔
- بغلی قبر یعنی لحد کا ذکر اس روایت میں واضح طور پر آیا ہے۔
- تدفین میں سادگی اور سنت کے مطابق طریقہ اختیار کرنا بہتر سمجھا گیا۔
