سنن نسائی حدیث ۲۰۱۰ - سعد رضی اللہ عنہ کی وصیت

سعد رضی اللہ عنہ کی بغلی قبر کی وصیت

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۱۰

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ سَعْدًا لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قال : " أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

عامر بن سعد بن ابی وقاص روایت:

سعد رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے کہا: میرے لیے بغلی قبر کھدوانا، اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ السلام کے لیے کی گئی تھی۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۱۰ کا خلاصہ

عامر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ جب سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا کہ میرے لیے بغلی قبر کھدوانا اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مفہوم کو ایک اور انداز سے بیان کرتی ہے۔ اس میں وفات کے وقت کی وصیت، لحد، اور قبر کے طریقے کا ذکر ہے۔ سرچ کرنے والے عموماً بغلی قبر، لحد کی حدیث، اور قبر کا سنت طریقہ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ صحابہ کرام اپنی تدفین میں بھی نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے کو پسند کرتے تھے۔ البتہ اس متن میں صرف یہی وصیت بیان ہوئی ہے، اس سے زیادہ بات شامل نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سعد رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت لحد کی وصیت کی۔
  • انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے طریقے کو اپنی تدفین کے لیے پسند کیا۔
  • قبر کے معاملے میں سادگی اور نبوی طریقے کی پیروی کا پہلو ملتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں