سنن نسائی حدیث ۲۰۱۱ - لحد مسلمانوں کے لیے ہے

لحد یعنی بغلی قبر مسلمانوں کے لیے

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۱۱

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ ، عَنْ حَكَّامِ بْنِ سَلْمٍ الرَّازِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا " .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہم (مسلمانوں) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے“ ۱؎۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۱۱ کا خلاصہ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔ اس حدیث میں قبر کی دو صورتوں کا ذکر آیا ہے: لحد یعنی بغلی قبر، اور شق یعنی صندوقی یا درمیان سے کھودی ہوئی قبر۔ روایت کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک ہونی چاہیے۔ جو لوگ لحد کیا ہے، بغلی قبر کی حدیث، یا مسلمانوں کی قبر کا طریقہ تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث براہ راست متعلق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں کے لیے لحد کا ذکر خاص طور پر فرمایا۔ یہ تدفین کے آداب اور قبر کے طریقے سے متعلق اہم روایت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے لحد کو مسلمانوں کے لیے بیان فرمایا۔
  • قبر کے طریقے میں نبوی الفاظ کو سمجھ کر عمل کرنا چاہیے۔
  • اس حدیث میں لحد اور شق کے فرق کی طرف اشارہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں