سنن نسائی حدیث ۲۰۱۳ - احد کے شہداء کی اجتماعی تدفین
احد کے دن اجتماعی تدفین کا نبوی حکم
سنن نسائی : ۲۰۱۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۱۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قال : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، قال : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أُصِيبَ مَنْ أُصِيبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَصَابَ النَّاسَ جِرَاحَاتٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ : " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا " .
ہشام بن عامر انصاری روایت:
جس دن احد کی لڑائی ہوئی تو جن مسلمانوں کو مارا جانا تھا مارے گئے، اور جسے زخمی ہونا تھا زخمی ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو اور چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین لوگوں کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں (قبر میں) پہلے رکھو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ غزوہ احد کا حال بیان کرتے ہیں۔ بہت سے مسلمان شہید ہوئے اور لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قبریں کھودو، انہیں چوڑا کھودو، اور ایک قبر میں دو دو تین تین لوگوں کو دفن کر دو۔ ساتھ ہی آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جسے قرآن زیادہ یاد ہو اسے پہلے رکھو۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ سخت حالات میں تدفین کے لیے آسانی دی گئی، مگر قبر کی تیاری میں اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ سرچ کرنے والے اس حدیث کو شہداء احد، ایک قبر میں کئی میتیں، اور حافظ قرآن کے احترام کے موضوع سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احد کے دن زخمیوں اور شہداء کی کثرت کے باعث اجتماعی تدفین کا حکم دیا گیا۔
- قبر کو چوڑا کھودنے کی ہدایت دی گئی۔
- زیادہ قرآن یاد رکھنے والے کو قبر میں پہلے رکھنے کا حکم دیا گیا۔
