سنن نسائی حدیث ۲۰۱۸ - قبر کو کشادہ اور اچھا بنانا

قبر کو کشادہ اور اچھی بنانے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۱۸

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قال : أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : اشْتَدَّ الْجِرَاحُ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا " .

ہشام بن عامر انصاری روایت:

غزوہ) احد کے دن (لوگ) شدید زخمی ہوئے (اور جاں بحق ہو گئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی گئی، آپ نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو، انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور ایک (ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہوا سے آگے رکھو“۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۱۸ کا خلاصہ

ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن زخمیوں اور شہیدوں کی کثرت کی وجہ سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے شکایت کی گئی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قبریں کھودو، انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، ایک قبر میں دو دو تین تین افراد کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو اسے آگے رکھو۔ یہ حدیث تدفین کے آداب میں ایک خاص موقع کی رہنمائی دیتی ہے۔ اس میں قبر کو اچھا بنانے کا حکم بھی ہے اور ترتیب کا بھی۔ جو لوگ قبر کی چوڑائی، ایک قبر میں دو افراد، یا حافظ قرآن کی تدفین تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت واضح ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قبر کو کشادہ اور اچھی بنانے کی ہدایت دی گئی۔
  • مشکل حالات میں ایک قبر میں دو یا تین افراد دفن کیے جا سکتے تھے۔
  • زیادہ قرآن یاد رکھنے والے کو آگے رکھنے کا حکم دیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں