سنن نسائی حدیث ۲۰۱۷ - احد میں ایک قبر کئی افراد
احد کے دن اجتماعی تدفین اور قرآن کا احترام
سنن نسائی : ۲۰۱۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۱۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قال : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قال : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ شَدِيدٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَنْ نُقَدِّمُ ؟ قَالَ : " قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا " .
ہشام بن عامر انصاری روایت:
جب (غزوہ) احد کا دن آیا، تو لوگوں کو سخت پریشانی ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو اور اسے چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین دفنا دو“، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: ”پہلے اسے رکھو جسے قرآن زیادہ یاد ہو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۱۷ کا خلاصہ
ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن لوگوں کو سخت پریشانی ہوئی۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قبریں کھودو، انہیں چوڑا کھودو، اور ایک قبر میں دو دو تین تین افراد کو دفن کر دو۔ صحابہ نے پوچھا کہ پہلے کسے رکھا جائے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔ یہ حدیث اجتماعی تدفین کے خاص حالات اور قرآن یاد رکھنے والے کے احترام کو بیان کرتی ہے۔ اس میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مشکل وقت میں بھی میت کی تدفین بے ترتیبی سے نہیں کی گئی، بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ترتیب بتائی۔ سرچ میں یہ حدیث ایک قبر میں کئی میتیں اور حافظ قرآن کو پہلے دفن کرنے کے موضوع سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت حالات میں ایک قبر میں دو یا تین افراد دفن کرنے کی ہدایت دی گئی۔
- قبر کو چوڑا کھودنے کا حکم دیا گیا۔
- زیادہ قرآن یاد رکھنے والے کو پہلے رکھنے کی ترتیب بتائی گئی۔
