سنن نسائی حدیث ۲۰۲۱ - عبداللہ بن ابی اور قمیص
عبداللہ بن ابی کو نبی صلى الله عليه وسلم کی قمیص پہنائی گئی
سنن نسائی : ۲۰۲۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۲۱
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قال : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا ، يَقُولُ : " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي قَبْرِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ " , وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے، تو آپ نے اسے (نکالنے کا) حکم دیا، چنانچہ وہ نکالا گیا، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی، واللہ اعلم۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۲۱ کا خلاصہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم عبداللہ بن ابی کے پاس اس وقت آئے جب اسے قبر میں داخل کر دیا گیا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے نکالنے کا حکم دیا، پھر اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اس پر اپنے لعاب مبارک سے پھونکا یا لگایا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔ روایت کے آخر میں واللہ اعلم کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ یہ حدیث عبداللہ بن ابی، قمیص، قبر، اور تدفین کے ایک خاص واقعے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں جو عمل نقل ہوا ہے، اسی کو بیان کرنا چاہیے، اس سے آگے کوئی دعویٰ متن میں موجود نہیں۔ سرچ کرنے والے اسے عبداللہ بن ابی کی حدیث یا نبی صلى الله عليه وسلم کی قمیص والی روایت کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں عبداللہ بن ابی کے ساتھ پیش آنے والا خاص واقعہ بیان ہوا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے قبر سے نکلوایا اور اپنی قمیص پہنائی۔
- حدیث کے الفاظ تک محدود رہنا چاہیے اور زائد دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
