سنن نسائی حدیث ۲۰۲۲ - عبداللہ بن ابی کی قبر اور قمیص
عبداللہ بن ابی کی قبر اور نماز جنازہ
سنن نسائی : ۲۰۲۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۲۲
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قال : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَتَفَلَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ " قَالَ جَابِرٌ : " وَصَلَّى عَلَيْهِ " وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکلوایا، پھر اس کا سر اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔ اور اس کی نماز (جنازہ) پڑھی، واللہ اعلم۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ایک خاص واقعہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکلوایا، اس کا سر اپنے گھٹنوں پر رکھا، اپنے لعاب مبارک سے اس پر تھوکا، اسے اپنی قمیص پہنائی اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ متن کے آخر میں راوی نے ”واللہ اعلم“ بھی کہا ہے، اس لیے اس واقعے کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے جس حد تک روایت میں آیا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع کفن، قمیص اور نماز جنازہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنازہ اور دفن سے متعلق بعض واقعات خاص حالات میں پیش آئے، مگر اس روایت سے عام حکم اپنی طرف سے نہیں نکالنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ کو اسی طرح سمجھنا چاہیے جیسے روایت میں آئے ہیں۔
- جنازہ اور تدفین کے واقعات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل امت کے لیے اہم ہے۔
- خاص واقعے کو عام حکم بنانے میں احتیاط ضروری ہے۔
- راوی کا ”واللہ اعلم“ کہنا علمی احتیاط کی مثال ہے۔
