سنن نسائی حدیث ۲۰۴۳ - میت کے لیے مغفرت کی دعا
میت کے لیے مغفرت کی دعا کی اہمیت
سنن نسائی : ۲۰۴۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۴۳
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَغْفِرُوا لَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
جب نجاشی (شاہ حبشہ) کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ان کی بخشش کی دعا کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جب نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو۔ یہ مختصر حدیث ایک اہم بات سکھاتی ہے کہ مسلمان اپنے فوت شدہ بھائی کے لیے خیر چاہتا ہے۔ میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا محبت، دینی تعلق اور خیر خواہی کی علامت ہے۔ اس روایت میں لمبی تفصیل نہیں، صرف ایک واضح حکم ہے کہ ان کے لیے بخشش طلب کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کی وفات کی خبر ملے تو زبان پر شکایت یا غیر ضروری گفتگو کے بجائے دعا ہونی چاہیے۔ اصل توجہ اللہ سے مغفرت مانگنے پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کی وفات پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔
- میت کے حق میں خیر کی بات اور دعا افضل رویہ ہے۔
- وفات کی خبر سن کر زبان کو دعا میں لگانا چاہیے۔
- مومن کا تعلق موت کے بعد بھی دعا کے ذریعے باقی رہتا ہے۔
