سنن نسائی حدیث ۲۰۴۴ - اپنے بھائی کے لیے مغفرت

اپنے دینی بھائی کے لیے مغفرت مانگنا

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۴۴

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَقَالَ : " اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شاہ حبشہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو“۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۴۴ کا خلاصہ

اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ فوت ہوئے، پھر فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو۔ یہاں لفظ بھائی بہت معنی رکھتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا رشتہ صرف سامنے موجود لوگوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دور رہنے والے مسلمان کے لیے بھی دعا کی جاتی ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ میت کے لیے استغفار کیا جائے۔ اس میں غیر ضروری تفصیل یا دنیاوی تبصرہ نہیں، بلکہ ایک سیدھا عمل بتایا گیا ہے۔ جب کسی مسلمان کی وفات ہو تو اس کے حق میں اللہ سے بخشش مانگنا ایک نرم، باوقار اور مفید رویہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسلمان کو اپنے دینی بھائی کے لیے مغفرت مانگنی چاہیے۔
  • وفات کی خبر ملنے پر سب سے بہتر عمل دعا ہے۔
  • ایمانی بھائی چارہ فاصلے سے ختم نہیں ہوتا۔
  • میت کے بارے میں خیر خواہی استغفار کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں