سنن نسائی حدیث ۲۱۱۶ - عکرمہ کی مرسل روایت

عکرمہ سے مرسلاً مروی روایت کا مطلب

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۱۶

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ ,

´اس سند سے` عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۱۱۶ کا خلاصہ

اس مختصر سندی نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔ یہاں اصل متن تفصیل سے دوبارہ بیان نہیں کیا گیا، بلکہ سند کی حالت بتائی گئی ہے۔ مرسل روایت میں تابعی سے بات نقل ہوتی ہے مگر صحابی کا نام درمیان میں ذکر نہیں ہوتا۔ اس لیے اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ قاری کو معلوم ہو کہ اسی مضمون کی ایک سند ایسی بھی ہے جس میں روایت مرسل آئی ہے۔ حدیث کے علم میں یہ بات اہم ہے، کیونکہ صرف متن دیکھنا کافی نہیں ہوتا، سند کی کیفیت بھی دیکھی جاتی ہے۔ اس نوٹ سے روایت کی تحقیق کا پہلو سامنے آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث کے متن کے ساتھ سند کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
  • مرسل روایت میں صحابی کا ذکر موجود نہیں ہوتا۔
  • محدثین سند کی باریکیوں کو محفوظ کرتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں