سنن نسائی حدیث ۲۱۱۷ - مرسل سند کا بیان

عکرمہ سے ایک اور مرسل سند کا بیان

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۱۷

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ مِصِّيصِيٌّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ .

´اس سند سے` بھی عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۱۱۷ کا خلاصہ

اس روایت میں بھی اصل توجہ متن کے بجائے سند پر ہے۔ عبارت میں بتایا گیا ہے کہ عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔ یعنی روایت کی یہ شکل ایسی ہے جس میں صحابی کا واسطہ ذکر نہیں ہوا۔ اس طرح کے نوٹس حدیث کے طالب علم کے لیے اہم ہوتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے آ سکتا ہے، اور ہر سند کی اپنی حیثیت ہوتی ہے۔ یہاں کوئی نیا فقہی حکم تفصیل سے بیان نہیں ہوا، بلکہ روایت کی سندی کیفیت محفوظ کی گئی ہے۔ اس سے حدیث کے علم کی امانت اور محدثین کی احتیاط سامنے آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک روایت کی مختلف سندیں الگ الگ حیثیت رکھتی ہیں۔
  • مرسل سند کو محدثین نے الگ طور پر بیان کیا ہے۔
  • دینی روایت میں احتیاط اور امانت ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں