سنن نسائی حدیث ۲۱۳۵ - جبرائیل علیہ السلام کا بیان
جبرائیل علیہ السلام اور انتیس دن کا مہینہ
سنن نسائی : ۲۱۳۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۳۵
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو بُرَيْدٍ الْجَرْمِيُّ بَصْرِيٌّ ، عَنْ بَهْزٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام صاف ہے۔ قمری مہینہ ہمیشہ تیس دن کا نہیں ہوتا۔ کبھی وہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ رمضان اور شوال جیسے مہینوں میں چاند دیکھنے کی بات اسی حقیقت سے جڑی ہے۔ جب لوگ اسلامی مہینے کی گنتی یا رمضان کے دنوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو یہ حدیث بتاتی ہے کہ انتیس دن کا مہینہ بھی شرعی طور پر معتبر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔
- اسلامی مہینوں کی گنتی میں چاند کا نظام معتبر ہے۔
- ہر مہینے کو لازمی تیس دن سمجھنا درست نہیں۔
