سنن نسائی حدیث ۲۱۳۶ - قمری مہینہ انتیس دن
قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے
سنن نسائی : ۲۱۳۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۳۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۳۶ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ الفاظ کم ہیں مگر بات بہت واضح ہے۔ اسلامی مہینے چاند کے حساب سے ہوتے ہیں، اس لیے کبھی مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا۔ اس حدیث کو رمضان 29 دن، قمری مہینہ اور اسلامی مہینے کی گنتی کے موضوع پر سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، صرف ایک بنیادی حقیقت بتائی گئی ہے کہ مہینے کو لازمی تیس دن سمجھنا ضروری نہیں۔ اسی اصول سے روزہ اور عید کے چاند کا معاملہ بھی سمجھ میں آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ انتیس دن کا ہو سکتا ہے۔
- اسلامی مہینوں کو چاند کے نظام سے سمجھا جائے۔
- مہینے کی گنتی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات معیار ہے۔
