سنن نسائی حدیث ۲۱۳۷ - ہاتھ کے اشارے سے مہینہ سمجھانا
ہاتھ کے اشارے سے انتیس دن کا مہینہ
سنن نسائی : ۲۱۳۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۳۷
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى وَقَالَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا " .
سعد بن ابی وقاص روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا (ایک) ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار میں ایک انگلی دبا لی۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۳۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگلی دبا لی۔ اس اشارے سے سمجھایا گیا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ حدیث کا انداز بہت آسان ہے، جیسے استاد شاگرد کو گنتی سمجھاتا ہے۔ اس کا تعلق قمری مہینے، رمضان کی گنتی اور اسلامی تاریخ کے حساب سے ہے۔ یہاں بات صرف اتنی ہے کہ مہینہ کبھی پورا تیس نہیں، بلکہ انتیس بھی ہو سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اشارے سے بات سمجھائی۔
- قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
- اسلامی مہینے کی گنتی میں چاند اور دنوں کی تعداد دونوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔
