سنن نسائی حدیث ۲۱۳۸ - مہینہ کبھی انتیس دن
مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے
سنن نسائی : ۲۱۳۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۳۸
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، يَعْنِي تِسْعَةً وَعِشْرِينَ " , رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سعد بن ابی وقاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اسے یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے، اور محمد بن سعد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ روایت کے آخر میں اس کے نقل کرنے کے طریقے کا ذکر بھی ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ قمری مہینہ ہر بار تیس دن کا ہونا ضروری نہیں۔ اسلامی مہینے چاند سے جڑے ہیں، اس لیے کبھی انتیس دن پر مہینہ مکمل ہو جاتا ہے۔ رمضان کے روزوں، عید کے چاند اور اسلامی تاریخ کی گنتی میں یہ بات بہت کام آتی ہے۔ حدیث ہمیں آسان انداز میں بتاتی ہے کہ مہینے کی تعداد بدل سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
- مہینے کی گنتی کو ہمیشہ تیس دن پر محدود نہ سمجھا جائے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان مثال سے بات سمجھائی۔
