سنن نسائی حدیث ۲۱۴۰ - مہینہ انتیس یا تیس دن
مہینہ انتیس یا تیس دن اور روزے کا حکم
سنن نسائی : ۲۱۴۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۴۰
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ ، وَيَكُونُ ثَلَاثِينَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ (کبھی) انتیس دن کا ہوتا ہے، اور (کبھی) تیس دن کا، اور جب تم (چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو (تیس کی) گنتی پوری کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو۔ اگر بادل چھا جائیں تو گنتی پوری کرو۔ یہ روایت دو باتوں کو ایک ساتھ واضح کرتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ قمری مہینہ بدلتا رہتا ہے، کبھی 29 اور کبھی 30 دن کا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ رمضان اور عید کا تعلق چاند سے ہے۔ چاند نظر نہ آئے تو مہینے کی گنتی مکمل کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ انتیس یا تیس دن کا ہو سکتا ہے۔
- رمضان اور عید کا فیصلہ چاند دیکھنے سے جڑا ہے۔
- بادل ہوں تو گنتی پوری کر کے معاملہ واضح کیا جائے۔
