سنن نسائی حدیث ۲۲۰۴ - روزہ، قیام اور شب قدر
رمضان کے روزے، قیام اور شب قدر کی فضیلت
سنن نسائی : ۲۲۰۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۰۴
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں روزے رکھے، (اور قتیبہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے (بھی) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۰۴ کا خلاصہ
اس روایت میں رمضان کی چند بڑی عبادتوں کا ذکر آیا ہے۔ متن میں رمضان کے روزے کا ذکر ہے، پھر روایت کے الفاظ میں قیام رمضان اور شب قدر کے قیام کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ روزہ ہو یا رات کا قیام، دونوں ایمان اور ثواب کی نیت سے ہوں۔ اسی طرح شب قدر میں قیام کرنے والے کے لیے بھی پچھلے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ حدیث رمضان کے روزے کی فضیلت، قیام رمضان، نماز تراویح اور شب قدر کی عبادت کو ایک ہی پیغام کے ساتھ جوڑتی ہے: بندہ اللہ پر یقین رکھ کر، ثواب کی امید سے عبادت کرے۔ اس میں دکھاوا، غفلت یا صرف رسم پوری کرنا مقصود نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کا روزہ ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھنا چاہیے۔
- رمضان کی راتوں کا قیام مغفرت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
- شب قدر میں قیام کی خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- عبادت کی روح اخلاص اور اللہ سے اجر کی امید ہے۔
