سنن نسائی حدیث ۲۲۰۳ - تراویح ایمان کے ساتھ
نماز تراویح ایمان اور ثواب کی نیت سے
سنن نسائی : ۲۲۰۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۰۳
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۰۳ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس میں رمضان کے قیام کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز تراویح صرف ایک معمول نہیں بلکہ دل کی نیت کے ساتھ ادا کی جانے والی عبادت ہے۔ بندہ جب اللہ پر یقین رکھتے ہوئے، ثواب کی امید کے ساتھ رمضان کی راتوں میں کھڑا ہوتا ہے تو یہ عمل اس کے لیے مغفرت کا سبب بنتا ہے۔ قیام رمضان، نماز تراویح کی حدیث، رمضان میں عبادت اور گناہوں کی بخشش اس حدیث کے اصل موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کا قیام ایمان کے ساتھ کیا جائے۔
- ثواب کی امید اللہ ہی سے رکھنی چاہیے۔
- نماز تراویح کو عادت نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔
- رمضان کی راتیں مغفرت کا قیمتی موقع ہیں۔
