سنن نسائی حدیث ۲۲۰۲ - قیام رمضان اور مغفرت
قیام رمضان کی فضیلت اور گناہوں کی بخشش
سنن نسائی : ۲۲۰۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۰۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رمضان کے قیام، یعنی رات کی نماز یا نماز تراویح کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ یہاں اصل بات صرف نماز پڑھ لینا نہیں، بلکہ ایمان اور احتساب ہے۔ یعنی بندہ اللہ کے وعدے پر یقین رکھے، دکھاوے کے لیے نہ کھڑا ہو، اور ثواب کی امید اللہ ہی سے رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام رمضان کی حدیث، نماز تراویح کی فضیلت اور رمضان کی عبادت جیسے الفاظ لوگوں میں بہت تلاش کیے جاتے ہیں۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ رمضان کی راتیں غفلت میں گزارنے کے بجائے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خاص موقع ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کی راتوں میں قیام کرنا بڑی فضیلت والا عمل ہے۔
- عبادت ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ ہونی چاہیے۔
- نماز تراویح کو سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ رمضان کی عبادت کے ذریعے گناہوں کی معافی کا دروازہ کھولتا ہے۔
