سنن نسائی حدیث ۲۲۰۸ - قیام رمضان اور شب قدر
قیام رمضان اور شب قدر کی عبادت
سنن نسائی : ۲۲۰۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۰۸
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ , وَأَبُو الْأَشْعَثِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کرے گا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کرے گا اس کے (بھی) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو اہم عبادتوں کا ذکر ہے: رمضان کا قیام اور شب قدر کا قیام۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ پھر فرمایا کہ جو شب قدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے، اس کے بھی پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ اس روایت میں قیام رمضان، نماز تراویح، شب قدر کی عبادت اور ایمان و احتساب سب ایک ساتھ آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی راتیں خاص طور پر عبادت، نماز اور اللہ سے اجر کی امید کے لیے ہیں۔ اصل شرط یہی ہے کہ عبادت دل کے یقین اور اخلاص کے ساتھ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کی راتوں میں قیام کی بڑی فضیلت ہے۔
- شب قدر میں قیام خاص اجر کا سبب بتایا گیا ہے۔
- عبادت ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ کی جائے۔
- رمضان کی راتوں کو غفلت کے بجائے نماز میں گزارنا چاہیے۔
