سنن نسائی حدیث ۲۲۰۹ - رمضان میں قیام اللیل
رمضان میں قیام اللیل اور شب قدر
سنن نسائی : ۲۲۰۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۰۹
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مَرْوَانَ ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے (عبادت پر) کمربستہ ہو گا اس کے (بھی) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں قیام اللیل، یعنی رات کی نماز کی فضیلت بیان فرمائی۔ جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ اسی طرح شب قدر میں عبادت کے لیے کھڑا ہونے والے کے لیے بھی یہی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اس روایت کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ رمضان کی عبادت صرف ظاہری عمل نہ ہو، بلکہ دل میں اللہ پر یقین اور اجر کی امید بھی ہو۔ قیام اللیل، نماز تراویح، شب قدر کی عبادت اور رمضان میں مغفرت اس حدیث کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان میں قیام اللیل کرنا فضیلت والا عمل ہے۔
- شب قدر میں عبادت کے لیے خاص توجہ دینی چاہیے۔
- ایمان اور ثواب کی نیت عبادت کو معنی دیتی ہے۔
- رمضان میں رات کی نماز مغفرت کا سبب بن سکتی ہے۔
