سنن نسائی حدیث ۲۲۱۴ - روزے کا خاص اجر

روزے کا خاص اجر اور روزہ دار کی خوشی

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۱۴

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

اللہ عزوجل فرماتا ہے: روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک وقت وہ اپنے رب سے ملے گا، اور دوسری خوشی وہ جو اسے روزہ کھولنے کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۲۱۴ کا خلاصہ

اس روایت میں اللہ عزوجل کا فرمان نقل ہوا ہے کہ روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ پھر روزہ دار کے لیے دو خوشیوں کا ذکر کیا گیا ہے: ایک اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملے گا، اور دوسری جب وہ افطار کرے گا۔ حدیث میں روزہ دار کے منہ کی بو کو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ دار کی وہ کیفیت جو دنیا والوں کو عام محسوس ہو سکتی ہے، اللہ کے نزدیک عزت والی ہے۔ یہ حدیث روزہ کی فضیلت، اجر روزہ، افطار کی خوشی اور اللہ کے لیے روزہ جیسے موضوعات پر واضح رہنمائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزہ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص عبادت ہے۔
  • روزے کا بدلہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دے گا۔
  • روزہ دار کو افطار اور رب سے ملاقات پر خوشی ملتی ہے۔
  • روزہ دار کی مشقت اللہ کے نزدیک قدر والی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں