سنن نسائی حدیث ۲۲۵۹ - سفر میں مشقت والا روزہ
سفر میں روزہ جب مشقت بن جائے
سنن نسائی : ۲۲۵۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۵۹
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ , فَسَأَلَ فَقَالُوا : رَجُلٌ أَجْهَدَهُ الصَّوْمُ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک شخص کو گھیرے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: (کیا بات ہے؟ کیوں لوگ اکٹھا ہیں؟) تو لوگوں نے کہا: ایک شخص ہے جسے روزہ نے نڈھال کر دیا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۵۹ کا خلاصہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کو ایک شخص کے گرد جمع دیکھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ ایک شخص ہے جسے روزے نے نڈھال کر دیا ہے۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے۔ اس حدیث میں “سفر میں روزہ” کا حکم ایک خاص صورت کے ساتھ سامنے آتا ہے: روزے کی وجہ سے آدمی بہت کمزور ہو گیا تھا۔ اس لیے اس روایت کا اہم پیغام یہ ہے کہ عبادت میں ایسی مشقت اختیار نہ کی جائے جو آدمی کو نڈھال کر دے۔ “مشقت والا روزہ”، “سفر میں روزہ نیکی نہیں” اور “رخصت” اس حدیث سے جڑے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں روزہ اگر سخت نڈھال کر دے تو اسے نیکی سمجھنا درست نہیں۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے کمزور شخص کی حالت دیکھ کر رہنمائی فرمائی۔
- عبادت میں انسان کی طاقت اور حالت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
- دین میں بے وجہ سختی کو پسندیدہ عمل نہیں بنایا گیا۔
