سنن نسائی حدیث ۲۳۲۷ - حیس کے تحفے پر نفلی روزہ توڑنا

حیس کے تحفے پر نفلی روزہ توڑنے کی روایت

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۲۷

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَاسِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقُلْنَا : أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ قَدْ جَعَلْنَا لَكَ مِنْهُ نَصِيبًا ، فَقَالَ : " إِنِّي صَائِمٌ فَأَفْطَرَ " .

عائشہ روایت:

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، ہم نے عرض کیا: ہمارے پاس حیس کا تحفہ بھیجا گیا، ہم نے اس میں آپ کا (بھی) حصہ لگایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روزہ سے ہوں“، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا۔

سنن نسائی حدیث ۲۳۲۷ کا خلاصہ

اس مختصر روایت میں نفلی روزہ کا ایک صاف واقعہ بیان ہوا ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ایک دن تشریف لائے۔ گھر والوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس حیس کا تحفہ بھیجا گیا ہے اور ہم نے اس میں آپ کا حصہ بھی رکھا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں روزے سے ہوں، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ یہاں نہ رمضان کا ذکر ہے، نہ قضا کا؛ اس لیے متن کے مطابق بات صرف اسی واقعے تک رکھی جاتی ہے۔ اس حدیث سے نفلی روزہ توڑنے کے بارے میں وہی مضمون سمجھ آتا ہے جو اسی سلسلے کی دوسری روایات میں نفلی صدقہ کی مثال کے ساتھ آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حیس کا تحفہ آنے پر آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے حصہ رکھا گیا۔
  • آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے اپنے روزے کا ذکر فرمایا۔
  • پھر اسی روایت میں روزہ توڑنے کا ذکر آیا ہے۔
  • روایت کو رمضان یا قضا کے روزے پر نہیں پھیلانا چاہیے، کیونکہ متن میں وہ ذکر نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں