سنن نسائی حدیث ۲۳۲۴ - نفلی روزہ اور روزہ توڑنے کی گنجائش

نفلی روزہ توڑنا: حیس کے واقعے سے آسان سبق

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۲۴

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " , فَقُلْتُ : لَا ، قَالَ : " فَإِنِّي صَائِمٌ " ، ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ حَيْسٌ فَخَبَأْتُ لَهُ مِنْهُ ، وَكَانَ يُحِبُّ الْحَيْسَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّهُ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَخَبَأْتُ لَكَ مِنْهُ ، قَالَ : " أَدْنِيهِ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ، فَأَكَلَ مِنْهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مَثَلُ الرَّجُلِ يُخْرِجُ مِنْ مَالِهِ الصَّدَقَةَ ، فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا ، وَإِنْ شَاءَ حَبَسَهَا " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے، اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ (کھانے کو) ہے؟“ تو میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“، اس دن کے بعد پھر ایک دن آپ میرے پاس سے گزرے، اس دن میرے پاس تحفہ میں حیس آیا ہوا تھا، میں نے اس میں سے آپ کے لیے نکال کر چھپا رکھا تھا، آپ کو حیس بہت پسند تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حیس تحفے میں دیا گیا ہے، میں نے اس میں سے آپ کے لیے چھپا کر رکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”لاؤ حاضر کرو، اگرچہ میں نے صبح سے ہی روزہ کی نیت کر رکھی ہے“ (مگر کھاؤ گا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا، پھر فرمایا: ”نفلی روزہ کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنے مال میں سے (نفلی) صدقہ نکالتا ہے، جی چاہا دے دیا، جی چاہا نہیں دیا، روک لیا“۔

سنن نسائی حدیث ۲۳۲۴ کا خلاصہ

یہ حدیث نفلی روزہ توڑنے کے مسئلے کو بہت آسان انداز میں بیان کرتی ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کھانے کے بارے میں پوچھا، جب گھر میں کچھ نہ تھا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں روزے سے ہوں۔ پھر بعد میں حیس کا ہدیہ آیا، جو آپ صلى الله عليه وسلم کو پسند تھا، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے کھایا، حالانکہ صبح روزے کی نیت کر چکے تھے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے نفلی روزہ کی مثال نفلی صدقہ سے دی: آدمی چاہے تو اسے آگے دے دے، چاہے تو روک لے۔ اس روایت میں رمضان یا قضا کے روزے کی بات نہیں، بلکہ نفلی روزہ کا ذکر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نفلی روزہ رمضان یا قضا کے روزے سے الگ ذکر ہوا ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کھانا نہ ہونے پر روزہ رکھا۔
  • حیس کا ہدیہ آنے پر آپ صلى الله عليه وسلم نے نفلی روزہ توڑا۔
  • نفلی روزہ کو نفلی صدقہ کی مثال سے سمجھایا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں