سنن نسائی حدیث ۲۳۲۹ - کھانا نہ ہو تو نفلی روزہ
کھانا نہ ملنے پر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
سنن نسائی : ۲۳۲۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۲۹
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْنَا : " لَا ، قَالَ : " فَإِنِّي صَائِمٌ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ”تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“۔
سنن نسائی حدیث ۲۳۲۹ کا خلاصہ
یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر نفلی روزہ کی نیت کے ایک پہلو کو واضح کرتی ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ایک دن گھر تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ جب جواب دیا گیا کہ نہیں، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں روزے سے ہوں۔ اس حدیث میں حیس یا بعد میں کھانے کا ذکر نہیں، اس لیے اس روایت کی حد تک بات یہی ہے کہ کھانا موجود نہ ہونے پر آپ صلى الله عليه وسلم نے روزے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ اسی سلسلے کی دوسری روایات میں حیس کا واقعہ بھی آیا ہے، مگر یہاں اصل لفظ صرف کھانے کے سوال اور روزے کے اعلان پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں گھر میں کھانے کا نہ ہونا بیان ہوا ہے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے اسی وقت اپنے روزے کا ذکر فرمایا۔
- اس متن میں بعد میں کھانے یا روزہ توڑنے کا ذکر نہیں۔
- نفلی روزہ کی نیت کے بارے میں بات مختصر اور واضح ہے۔
