سنن نسائی حدیث ۲۳۳۳ - فجر سے پہلے روزے کی نیت
روزے کی نیت فجر سے پہلے کرنا کیوں ضروری ہے؟
سنن نسائی : ۲۳۳۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۳۳
أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ ، فَلَا صِيَامَ لَهُ " .
حفصہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہ ہو گا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۳۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع روزے کی نیت ہے۔ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہ ہو گا۔ متن بہت مختصر ہے مگر بات صاف ہے: روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں، اس کے لیے نیت بھی ضروری ہے، اور اس روایت میں نیت کا وقت فجر سے پہلے بتایا گیا ہے۔ یہاں حدیث کے الفاظ عمومی انداز میں آئے ہیں، اس لیے وضاحت میں یہی کہا جائے گا کہ روزہ کے ارادے کو فجر سے پہلے پختہ کرنا چاہیے۔ اس سے روزہ کی نیت فجر سے پہلے کرنے کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزہ کے لیے نیت کا ذکر صاف الفاظ میں آیا ہے۔
- نیت کا وقت طلوع فجر سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔
- صرف بھوکا رہنا کافی نہیں، ارادہ بھی ضروری ہے۔
- حدیث مختصر ہے، اس لیے بات کو اسی حکم تک محدود رکھا جائے۔
