سنن نسائی حدیث ۲۳۳۲ - نیت کے بعد نفلی روزہ توڑنا
نیت کے بعد نفلی روزہ توڑنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۳۳۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۳۲
أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ طَعَامٍ ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " إِذًا أَصُومُ " ، قَالَتْ : وَدَخَلَ عَلَيَّ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَقَالَ : " إِذًا أُفْطِرُ الْيَوْمَ ، وَقَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ " .
عائشہ روایت:
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں“، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کر لی تھی“۔
سنن نسائی حدیث ۲۳۳۲ کا خلاصہ
اس روایت میں نفلی روزہ کی نیت اور بعد میں روزہ توڑنے کا بیان صاف الفاظ میں آیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم آئے اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ جب عرض کیا گیا کہ نہیں، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔ پھر دوسری بار تشریف لائے تو بتایا گیا کہ ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا، حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کر لی تھی۔ اس حدیث میں اصل موضوع نفلی روزہ ہے، اور متن یہی بتاتا ہے کہ اس واقعے میں نیت کے بعد بھی روزہ توڑا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانا نہ ہونے پر روزہ رکھنے کا فیصلہ بیان ہوا ہے۔
- حیس کا ہدیہ آنے کے بعد روزہ توڑنے کا ذکر ہے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے نیت ہو جانے کا بھی ذکر فرمایا۔
- متن نفلی روزہ کے واقعے پر ہے، اسے فرض روزے پر نہ پھیلایا جائے۔
