سنن نسائی حدیث ۲۳۳۵ - پختہ ارادہ فجر سے پہلے
روزے کا پختہ ارادہ طلوع فجر سے پہلے
سنن نسائی : ۲۳۳۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۳۵
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَشْهَبَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , وَذَكَرَ آخَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حَدَّثَهُمَا , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَلَا يَصُومُ " .
حفصہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص روزہ کا پختہ ارادہ طلوع فجر سے پہلے نہ کر لے تو وہ روزہ نہ رکھے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۳۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں الفاظ تھوڑے مختلف ہیں، مگر مضمون روزے کی نیت ہی ہے۔ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص روزہ کا پختہ ارادہ طلوع فجر سے پہلے نہ کر لے تو وہ روزہ نہ رکھے۔ یہاں نیت کے لیے پختہ ارادہ کا لفظ آیا ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ روزہ ایک شعوری عمل ہے؛ آدمی کو معلوم ہو کہ وہ روزہ رکھنے جا رہا ہے۔ حدیث میں طلوع فجر سے پہلے کا وقت صاف بیان ہوا ہے۔ اس لیے وضاحت میں اتنا ہی کہا جائے گا کہ روزہ کی نیت کو فجر سے پہلے طے کرنا چاہیے، تاکہ عبادت ارادے کے ساتھ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزہ کے لیے پختہ ارادہ کا لفظ آیا ہے۔
- نیت کا وقت طلوع فجر سے پہلے بتایا گیا ہے۔
- روزہ شعوری ارادے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔
- حدیث میں جو بات آئی ہے اسے اسی حد میں بیان کرنا چاہیے۔
