سنن نسائی حدیث ۲۳۳۶ - رات میں روزے کی نیت
رات ہی میں روزے کی نیت کرنے کا بیان
سنن نسائی : ۲۳۳۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۳۶
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا صِيَامَ لَهُ " .
حفصہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزہ کی نیت رات ہی میں نہ کر لی ہو تو اس کا روزہ نہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۲۳۳۶ کا خلاصہ
اس روایت میں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے کہ جس نے روزے کی نیت رات ہی میں نہ کر لی ہو تو اس کا روزہ نہیں۔ پچھلی روایات میں فجر سے پہلے کا ذکر ہے، اور یہاں رات ہی میں نیت کرنے کے الفاظ آئے ہیں۔ دونوں الفاظ روزے کی نیت کے وقت کو سمجھاتے ہیں کہ صبح صادق سے پہلے روزہ کا ارادہ موجود ہو۔ حدیث کا انداز مختصر ہے، مگر فائدہ بڑا واضح ہے: روزہ نیت کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ اس روایت میں کھانے پینے، سحری یا دوسرے مسائل کی تفصیل نہیں، اس لیے شرح کو اسی بات تک محدود رکھنا مناسب ہے کہ روزے کی نیت رات میں کر لی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں رات ہی میں نیت کرنے کے الفاظ آئے ہیں۔
- روزہ نیت کے ساتھ شروع ہونے والی عبادت ہے۔
- حدیث میں فجر سے پہلے نیت کا مفہوم صاف ہے۔
- متن میں دوسرے مسائل نہیں، اس لیے بات نیت تک رکھی جائے۔
