سنن نسائی حدیث ۲۳۳۷ - رات کی پختہ نیت
رات میں روزے کی پختہ نیت کا بیان
سنن نسائی : ۲۳۳۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۳۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : " مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يَصُومُ " .
حفصہ روایت:
جس نے رات ہی میں روزہ کی پختہ نیت نہ کر لی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔
سنن نسائی حدیث ۲۳۳۷ کا خلاصہ
یہ روایت ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے قول کے طور پر آئی ہے۔ وہ فرماتی تھیں کہ جس نے رات ہی میں روزہ کی پختہ نیت نہ کر لی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔ اس میں نبی صلى الله عليه وسلم کا براہ راست فرمان نہیں بلکہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا بیان نقل ہوا ہے، اس لیے عبارت میں اسی طرح فرق ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مضمون وہی ہے: روزے کی نیت رات میں طے ہو۔ یہاں پختہ نیت کا لفظ آدمی کو غفلت سے نکالتا ہے کہ روزہ کسی اتفاقی بھوک کا نام نہیں، بلکہ ارادے والی عبادت ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کر روزہ رکھنے والا فجر سے پہلے اپنے دل میں روزہ کا فیصلہ صاف کر لیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت حفصہ رضی اللہ عنہا کے قول کے طور پر آئی ہے۔
- روزے کے لیے رات میں پختہ نیت کا ذکر ہے۔
- روزہ ارادے والی عبادت ہے، اتفاقی بھوک نہیں۔
- متن میں مختصر حکم ہے، اس سے زائد بات نہیں بڑھانی چاہیے۔
