سنن نسائی حدیث ۲۳۳۸ - فجر سے پہلے پختہ نیت
فجر سے پہلے روزے کی پختہ نیت
سنن نسائی : ۲۳۳۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۳۸
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعْ قَبْلَ الْفَجْرِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔
سنن نسائی حدیث ۲۳۳۸ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا قول نقل ہوا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔ یہاں بھی اصل لفظ پختہ نیت ہے، اور وقت فجر سے پہلے بتایا گیا ہے۔ یہ حدیث روزے کی نیت فجر سے پہلے کرنے کے سوال کا سیدھا جواب دیتی ہے۔ اس میں نہ لمبی بحث ہے، نہ دوسرے روزوں کی تفصیل؛ صرف اتنا بیان ہے کہ روزہ رکھنے والے کے دل میں ارادہ فجر سے پہلے موجود ہونا چاہیے۔ آسان الفاظ میں، روزہ شروع ہونے سے پہلے نیت طے کر لینا اس روایت کا بنیادی پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر سے پہلے نیت کا وقت بتایا گیا ہے۔
- پختہ نیت کا لفظ روایت میں موجود ہے۔
- روایت حفصہ رضی اللہ عنہا کے قول کے طور پر آئی ہے۔
- روزہ شروع ہونے سے پہلے ارادہ طے ہونا چاہیے۔
