سنن نسائی حدیث ۲۳۳۹ - فجر سے پہلے نیت نہ ہو تو روزہ نہیں
فجر سے پہلے نیت نہ ہو تو روزہ نہیں
سنن نسائی : ۲۳۳۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۳۹
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعْ قَبْلَ الْفَجْرِ " .
حفصہ روایت:
اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔
سنن نسائی حدیث ۲۳۳۹ کا خلاصہ
یہ روایت بھی ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے قول کے طور پر نقل ہوئی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔ الفاظ مختصر ہیں، مگر روزے کی نیت کے معاملے میں بہت صاف ہیں۔ یہاں فجر سے پہلے کا وقت بتایا گیا ہے، اس لیے روزہ رکھنے والے کو چاہیے کہ وہ رات میں یا فجر سے پہلے اپنے ارادے کو واضح کر لے۔ حدیث میں سحری کھانے یا نہ کھانے کی بات نہیں، بلکہ نیت کا ذکر ہے۔ اس لیے اصل سبق یہی ہے کہ روزہ نیت کے ساتھ ہو، اور نیت وقت سے پہلے طے ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ قول حفصہ رضی اللہ عنہا سے نقل ہوا ہے۔
- روزے کی پختہ نیت فجر سے پہلے بتائی گئی ہے۔
- روایت میں سحری نہیں، نیت کا ذکر ہے۔
- روزہ ارادے کے ساتھ شروع ہونا چاہیے۔
