سنن نسائی حدیث ۲۴۵۲ - گائے بیل کی زکاۃ
گائے بیل کی زکاۃ کا نصاب
سنن نسائی : ۲۴۵۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۵۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ ، وَمِنَ الْبَقَرِ مِنْ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً ، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً " .
معاذ بن جبل روایت:
´معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا اور حکم دیا کہ ہر بالغ شخص سے ایک دینار (جزیہ) لیں یا اتنی قیمت کی یمنی چادریں، اور ہر تیس گائے بیل میں ایک برس کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے اور بیل میں دو برس کی ایک گائے۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۵۲ کا خلاصہ
یہ حدیث گائے بیل کی زکاۃ کے نصاب کے بارے میں ہے۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ ہر تیس گائے بیل میں ایک برس کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے بیل میں دو برس کی ایک گائے لیں۔ اسی روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ہر بالغ شخص سے ایک دینار یا اس کے برابر قیمت کی یمنی چادریں لی جائیں۔ حدیث کا اصل حصہ گائے بیل کی زکاۃ کا حساب سمجھاتا ہے۔ اس میں دو عدد صاف طور پر آئے ہیں: تیس اور چالیس۔ تیس پر ایک سال کا بچہ، اور چالیس پر دو سال کی گائے۔ اس سے زکاۃ کا نصاب اندازے کے بجائے مقرر حکم کے طور پر سمجھ میں آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گائے بیل کی زکاۃ کے لیے تیس اور چالیس کا نصاب بیان ہوا ہے۔
- ہر تیس میں ایک سال کا بچھوا یا بچھیا لیا جائے گا۔
- ہر چالیس میں دو سال کی گائے کا حکم آیا ہے۔
- زکاۃ وصولی کے لیے واضح مقداریں مقرر کی گئیں۔
