سنن نسائی حدیث ۲۴۵۴ - گائے کی زکاۃ کا حکم

گائے بیل کی زکاۃ کا آسان حکم

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۵۴

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، " أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً ، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً ، َمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ " .

معاذ بن جبل روایت:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر تیس گائے بیل میں ایک سال کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے میں دو سال کی بچھیا۔ اور ہر بالغ سے (جزیہ میں) ایک دینار یا ایک دینار کی قیمت کی یمنی چادر۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۵۴ کا خلاصہ

یہ روایت بھی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے یمن بھیجے جانے کے واقعے سے متعلق ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو حکم دیا کہ ہر تیس گائے بیل میں ایک سال کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے میں دو سال کی بچھیا لیں۔ روایت میں ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر یمنی چادر کا ذکر بھی آیا ہے۔ اس حدیث میں گائے بیل کی زکاۃ کو دو واضح درجوں میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ کے احکام میں اندازہ نہیں بلکہ مقرر مقدار دیکھی جاتی ہے۔ جو شخص گائے بیل کی زکاۃ کا نصاب جاننا چاہتا ہے، اس حدیث میں اسے اصل عدد مل جاتے ہیں: تیس اور چالیس۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گائے بیل کی زکاۃ کے لیے مقرر تعداد دیکھی جائے گی۔
  • تیس پر ایک سال کا بچھوا یا بچھیا لیا جائے گا۔
  • چالیس پر دو سال کی بچھیا کا حکم بیان ہوا ہے۔
  • زکاۃ کے معاملے میں صاف اور مقرر حساب اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں