سنن نسائی حدیث ۲۴۵۳ - تیس اور چالیس گائے کا نصاب

تیس اور چالیس گائے بیل کی زکاۃ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۵۳

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، وَالْأَعْمَشُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا : قَالَ مُعَاذٌ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً ثَنِيَّةً ، وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا ، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ " .

معاذ بن جبل روایت:

مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا، تو مجھے حکم دیا کہ ہر چالیس گائے میں دو برس کی ایک گائے، اور ہر تیس میں ایک سال کا ایک بچھوا لوں۔ اور ہر بالغ سے (بطور جزیہ) ایک دینار لوں، یا ایک دینار کے مساوی قیمت کی یمنی چادر۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۵۳ کا خلاصہ

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو حکم دیا کہ ہر چالیس گائے میں دو برس کی ایک گائے لی جائے، اور ہر تیس میں ایک سال کا بچھوا لیا جائے۔ اسی کے ساتھ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر یمنی چادر لینے کا ذکر بھی ہے۔ اس حدیث میں گائے بیل کی زکاۃ کا حساب مختصر مگر صاف انداز میں بیان ہوا ہے۔ اگر کسی کے پاس گائے بیل تیس تک پہنچ جائیں تو ایک سال کا بچہ لیا جائے گا، اور چالیس پر دو برس کی گائے کا حکم ہے۔ یہ روایت زکاۃ کے نصاب، حکومتی وصولی اور مقرر مقدار کے خیال کو آسانی سے سمجھاتی ہے، مگر ہمیں اسی حد تک بات رکھنی چاہیے جو حدیث میں آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گائے بیل کی زکاۃ میں عددی نصاب مقرر ہے۔
  • تیس گائے بیل پر ایک سال کا بچہ لیا جائے گا۔
  • چالیس گائے پر دو سال کی گائے کا حکم ہے۔
  • زکاۃ کا حساب واضح ہدایت کے مطابق ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں