سنن نسائی حدیث ۲۴۶۷ - زکاۃ کے حکم کی دوسری روایت
زکاۃ کے حکم اور مال کے حق کی روایت
سنن نسائی : ۲۴۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۶۷
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةٍ مِثْلَهُ سَوَاءً .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم دیا، آگے کی اوپر والی روایت کے مثل مروی ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم دیا، پھر آگے کی روایت پچھلی حدیث جیسی بیان ہوئی۔ اس طرح یہ بات دوبارہ سامنے آتی ہے کہ زکاۃ مال کا ایسا حق ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پچھلی روایت کے مطابق ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس رضی اللہ عنہم کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ وضاحت فرمائی۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ زکاۃ کے معاملے میں صرف ظاہری بات سن کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ زکاۃ کی حدیث، مال کا حق، زکاۃ روکنے کا حکم اور صدقہ واجب جیسے الفاظ اس روایت سے جڑے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکاۃ کا حکم مالدار شخص کے لیے سنجیدہ معاملہ ہے۔
- کسی کے بارے میں الزام سن کر فوراً فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
- ہر شخص کا معاملہ اس کی حقیقت کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔
- مال کی نعمت کے ساتھ اس کا حق ادا کرنا بھی لازم ہے۔
